نتائج تلاش

  1. م

    غزل : دیکھنے والو مری سمت کبھی تو دیکھو

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن دیکھنے والو مری سمت کبھی تو دیکھو زخم سہہ کر بھی مری خندہ لبی تو دیکھو ہوک اٹھتی ہے جو دل سے وہ رکے گی کیسے شادماں لہجے میں فریادِ خفی تو دیکھو تم سے برداشت ہوئی کب مرے گھر کی رونق آؤ اب گھر میں مرےآگ لگی تو دیکھو خودکشی کو مری اک جرم سمجھنے والو خود مرے ہاتھوں...
  2. م

    غزل : نہ ساقی ہے نہ پیمانہ ہے باقی از: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از: محمد حفیظ الرحمٰن نہ ساقی ہے نہ پیمانہ ہے باقی فقط صحرا میں دیوانہ ہے باقی نہ اب وہ مور باقی ہیں نہ جنگل...
  3. م

    غزل : چمن میں نعرہء یاہو ہے کیسا از : محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن چمن میں نعرہء یاہو ہے کیسا اور اس پر یہ خمِ ابرو ہے کیسا غزالِ دشت کی وحشت ہے کیسی یہ صحرا میں رمِ آہو ہے کیسا جھکی ہیں ساری محفل کی نگاہیں شریکِ بزم یہ مہ رو ہے کیسا چمن سارا منور ہو رہا ہے تمھارے باغ میں جگنو ہے کیسا نہ خود سمجھے نہ اوروں ہی کی مانے مِرا دل...
  4. م

    غزل : سب ماہ جبیں حسنِ سراپا نہیں ہوتے از : محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن سب ماہ جبیں حسنِ سراپا نہیں ہوتے محفل میں بھی سب انجمن آرا نہیں ہوتے ہم سلسلہء قیس میں بیعت ہیں جبھی تو مر جاتے ہیں پر عشق میں رسوا نہیں ہوتے کہتا ہے یہ پیاسوں سے سرابوں کا تسلسل آنکھوں کے یہ دھوکے کبھی دریا نہیں ہوتے انسان کی تکلیف پہ دل جن کا نہ تڑپے وہ...
  5. م

    ایک قطعہ از : محمد حفیظ الرحمٰن

    ایک قطعہ از : محمد حفیظ الرحمٰن آگہی روگ بن نہ جائے کہیں یہ خوشی سوگ بن نہ جائے کہیں ترکِ دنیا محض خیال ہے...
  6. م

    غزل : چل رہی ہے ہر طرف یہ کیسی انجانی ہوا

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن چل رہی ہے ہر طرف یہ کیسی انجانی ہوا بستیوں میں کر رہی ہے اپنی من مانی ہوا یاد کی پھولوں بھری سوغات مجھ کو دے گئی وہ ٹھٹھرتی کانپتی ہنستی زمستانی ہوا کل اچانک اس گلی سے پھر ہوا میرا گزر اجنبی تھے لوگ لیکن جانی پہچانی ہوا توڑ کر یوں سارے بندھن چل دیا اے دل کہاں ساتھ...
  7. م

    غزل : شبِ تاریک ، اک دیا اور میں

    غزل از : محمد حفیظ الرحمٰن شبِ تاریک اک دیا اور میں وہی خوابوں کا سلسلہ اور میں کتنی انجان منزلوں کا سفر کتنا ویران راستہ اور میں رات بھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں تیری یادوں کا قافلہ اور میں ذکر کچھ اس کی چال کا مت چھیڑ مست ہو جایئں نہ ہوا اور میں خوب دونوں میں جنگ ہوتی ہے جب مقابل ہوں آیئنہ اور میں...
  8. م

    ایک تازہ شعر از ۔ محمد حفیظ الرحمٰن

    ایک تازہ شعر از ۔ محمد حفیظ الرحمٰن بدن کی قربتیں کچھ اور ہیں دلوں کی کچھ اور وہ مجھ سے دور کہیں ھے گلے لگا کے مجھے
  9. م

    غزل: کتنے غنچوں نے جان ہاری ہے:ُ: از: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل محمد حفیظ الرحمٰن کتنے غنچوں نے جان ہاری ہے سارے گلشن پہ سوگ طاری ہے شہر کا شہر بن گیا مقتل جانے کِس کِس کی آج باری ہے شہر کے راستے ہیں سارے بند جانے کِس شاہ کی سواری ہے اپنی قسمت ہے در بدر پھرنا اُن کی قسمت میں شہریاری ہے اُن سے ملنا جو اپنے بس میں نہیں یاد کرنا تو اختیاری ہے آئینہ دیکھ کر...
  10. م

    غزل: کیسے بھولوں میں مقدر کی ستم رانی کو: محمد حفیظ الرحمٰن

    غزل محمد حفیظ الرحمٰن کیسے بھولوں میں مقدر کی ستم رانی کو جامہ خوش زیب دیا چاک گریبانی کو گھِر کے آئی تھی گھٹا ، کھل کے برستی بھی رہی تشنہ لب پھر بھی ترستے ہی رہے پانی کو کِس قدر لرزہ براندام عدو ہوتا ہے ناتواں ہاتھ جب اٹھتے ہیں نگہبانی کو میں نے ہر ایک خطا دل سے بھلا دی تیری تو نے بخشا...
Top