غزل
از : محمد حفیظ الرحمٰن
شبِ تاریک اک دیا اور میں
وہی خوابوں کا سلسلہ اور میں
کتنی انجان منزلوں کا سفر
کتنا ویران راستہ اور میں
رات بھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں
تیری یادوں کا قافلہ اور میں
ذکر کچھ اس کی چال کا مت چھیڑ
مست ہو جایئں نہ ہوا اور میں
خوب دونوں میں جنگ ہوتی ہے
جب مقابل ہوں آیئنہ اور میں...