آصف اثر
معطل
آپ نے بہت احسن مگر ”بھاری“ قدم اُٹھایا ہے۔ سائنسی مضامین کے ترجمے کا تجربہ ہونے کی بنیاد پر عرض ہے کہ جِسے آپ تالاب سمجھ بیٹھی ہیں وہ دراصل پورا بُحیرہ ہے جس میں ایک ایک مچھلی پکڑتے پکڑتے آپ بہت تھک جائیں گی۔ اِس گزارش کا مقصد آپ کی حوصلہ شِکنی ہرگز نہیں بلکہ ترجمے کی رفتار میں تیزی اور ذہنی کوفت کم کرنا ہے۔ اگر آپ سنجیدگی سے اور مستقل بنیاد پر ترجمے کے میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہے تو یہ بات ذہن میں رہے کہ ترجمہ نگاری ایک الگ فن ہے جس میں مہارت حاصل کیے بغیر قلم کاری کرنا زیادہ سودمند ثابت نہیں ہوتا۔السلام علیکم!
میں یہ لڑی اس لیے شروع کر رہی ہوں کیونکہ کچھ دن قبل کچھ انگریزی مضامین کے اردو ترجمے پر کام شروع کیا ہے۔ بعض اصطلاحات کے اردو متبادل یا تو ہوتے نہیں ہیں یا میرے ذہن میں نہیں آتے۔ جب کہ میری کوشش ہے کہ جہاں تک ہو سکے اسے مشکل بنائے بغیر اردو میں ہی لکھا جائے اور کوئی انگریزی اصطلاح اس وقت ہی آگے جانے دی جائے جب وہ واقعی زیادہ ابلاغ کی حامل ہو یا اور کوئی بھی ناگزیر وجوہات ہوں۔ مجھے امید ہے کہ سبھی محترم اراکین ان اصطلاحات کے اردو ترجمے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے کہ بعض معاملات میں اردو کی تہی دامنی تسلیم کیے رکھنا اور اس کے لیے کچھ نہ کر پانا جس طرح مجھے گوارا نہیں یقینا آپ کو بھی نہ ہوگا۔
بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے سے تیار کوئی مستند اردو سائنسی لُغت اپنے پاس رکھیں، جس میں فقرہ جاتی طرز پر تراجم بھی شامل ہوں۔ کیوں کہ بعض دفعہ بنیادی لفظ کا ترجمہ موجود ہونے کے باوجود باؤنڈ مارفیم (سابقے/لاحقے) کی وجہ سے ترجمہ کرنا ذرا دشوارتر ہوجاتاہے۔ یااپنی مدد آپ کے تحت مطلوبہ الفاظ کی پہلے سے ایک فہرست بنا کر کسی ماہر سے ترجمہ کروانے کے بعد ترجمہ شروع کردیجیے۔ اگر ٹیکنالوجی مضامین کی بات کی جائے تو وہ سائنسی مضامین کی بنسبت زیادہ آسانی سے ”ترجمہ“ ہوجاتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے انگریزی نُما اصطلاحات اردو میں بعینہ لکھ دیے جاتے ہیں جب کہ سائنسی اصطلاحات کا ترجمہ کیا جاتاہے۔ اس حوالے سے (محدود پیمانے پر) جتنا معیاری کام گلوبل سائنس کے مدیرِ اعلیٰ محترم علیم احمد صاحب نے کیا ہے شائد ہی کہیں نظر آئے۔ کروموسوم اور اِس کے اُردو ترجمے پر اُن کی ایک تحریر پڑھ کر لطف اندوز ہوجائیے۔
اُردو زبان میں ’’کروموسوم‘‘ کا ترجمہ ’’لَون جسمیہ‘‘ یا صرف ’’لَونیہ‘‘ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس ترجمے کا مذاق اُڑاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ بھلا یہ بھی کوئی ترجمہ ہوا؟ پھر وہ منہ ٹیڑھا کرکے ’’لَونیہ‘‘ کہتے ہیں اور قہقہے لگاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ انگریزی اصطلاح ’’کروموسوم‘‘ کس طرح سے بنائی گئی ہے؛ اور اس کا اُردو ترجمہ کن پہلوئوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ انگریزی کی بیشتر سائنسی اصطلاحات بنانے کیلئے یونانی، جرمن اور لاطینی زبانیں استعمال کی گئی ہیں۔ کچھ اصطلاحات ایسی بھی ہیں جو عربی الفاظ کو بگاڑ کر بنائی گئی ہیں؛ جبکہ کچھ سائنسی اصطلاحات، افراد کے ناموں پر مشتمل ہیں۔ اب اگر ہم لفظ ’’کروموسوم‘‘ کی بات کریں، تو یہ دراصل دو یونانی الفاظ کا مجموعہ ہے: کروما (Chroma) یعنی رنگ؛ اور سوما (Soma) یعنی جسم/ وجود۔ گویا آسان اُردو میں ترجمہ کیا جائے، تو کروموسوم کا مطلب ’’ رنگ دار جسم‘‘ ہوگا۔ کروموسوم کو یہ نام اُنیسویں صدی عیسوی کے ایک جرمن طبّی ماہر، ولہم فان والدیئر ہارٹز نے 1888ء میں دیا۔
’’کروموسوم‘‘ کو مزید سمجھنا چاہیں تو چند مثالیں دیکھئے: کیمیا میں ’’کرومیٹو گرافی‘‘ (رنگ نگاری)، اور طبیعیات میں ’’مونو کرومیٹک‘‘ (یک رنگی) جیسی اصطلاحات میں ’’رنگ‘‘ کی ترجمانی بھی اسی ’’کروما‘‘ سے کی گئی ہے۔ اسی طرح جب حیاتیات میں Somatic Cells لکھا جاتا ہے، تو اس سے مراد عام ’’جسمانی خلیات‘‘ ہوتے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کروموسوم کو ’’کروموسوم‘‘ کہتے ہی کیوں ہیں؟ کچھ اور کیوں نہیں کہتے؟ تو جناب! اس کی وجہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ دراصل کروموسوم اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھنے کیلئے محض انتہائی طاقتور خردبین ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ خاص طرح کے کچھ رنگ بھی شامل کئے جاتے ہیں۔ کروموسوم میں یہ خاصیت ہے کہ وہ رنگ کے سالمات سے فوراً چپک جاتے ہیں؛ گویا اُسی رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اور جب انہیں طاقتور خردبین کی مدد سے، خلئے کے تقسیم ہوتے دوران دیکھا جاتا ہے، تو وہ باریک ’’رنگین دھاگوں‘‘ کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔
اُردو زبان میں سائنسی اصطلاحات پر عربی اور فارسی کا بہت گہرا اثر ہے۔ مثلاً عربی میں رَنگ کیلئے ’’لَون‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ’’جسم‘‘ بھی عربی ہی کا لفظ ہے، جس سے مراد ایسی کوئی بھی چیز ہے جس میں لمبائی، چوڑائی اور موٹائی ہو۔۔۔ یعنی کسی بھی ’’ٹھوس مادّی چیز‘‘ کو ’’جسم‘‘ کہا جاتا ہے۔ لہٰذا، انگریزی کے ’’کروموسوم‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’لَون جسمیہ‘‘ (رنگ دار جسم رکھنے والا) کردیا گیا۔ بعد میں اصطلاح کو مختصر اور رواں رکھنے کی غرضے سے لَون جسمیہ کو صرف ’’لَونیہ‘‘ کردیا گیا۔
کروموسوم کی دریافت 1870ء کے عشرے میں والدر فلیمنگ نامی ایک جرمن حیاتیات داں نے کی، جسے ’’خلوی جینیات‘‘ (Cytogenetics) کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فلیمنگ ہی تھا جس نے کروموسوم کا مشاہدہ کرنے کیلئے ’’اینیلین‘‘ (aniline) کہلانے والا ایک رنگ دار مادّہ استعمال کیا۔ کئی سال کی تحقیق کے بعد جب اسے اپنی دریافت پر اطمینان ہوگیا، تو پھر اس نے 1878ء میں اپنا تحقیقی مقالہ (جرمن زبان میں) شائع کروایا، جس میں اس نے پوری تفصیل سے اس دریافت کے بارے میں بیان کیا تھا۔ (البتہ، تب تک اِن کا نام ’’کروموسوم‘‘ نہیں رکھا گیا تھا۔)
اب ذرا جلدی سے یہ بھی بتادیں کہ کروموسوم کیا ہوتا ہے۔ تو جناب! کروموسوم کسی خلئے کے مرکزے (نیوکلیئس) کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ یہ خلیہ کسی جانور کا بھی ہوسکتا ہے، اور کسی پودے کا بھی۔ لیکن اگر اس میں مرکزہ ہوگا، تو مرکزے میں کروموسوم بھی لازماً ہوں گے۔ ہر کروموسوم میں ’’ڈی این اے‘‘ کہلانے والے سالمات کی بہت ہی لمبی لمبی زنجیریں، سخت پروٹین کی گیندوں (ہسٹونز) پر لپٹی ہوتی ہیں۔۔۔ بالکل اسی طرح جیسے مانجھے کی لمبی ڈور ایک گولے کی شکل میں لپیٹ کر ’’پِنّا‘‘ بنایا جاتا ہے؛ تاکہ بہت لمبا مانجھا بھی تھوڑی سی جگہ میں سما جائے۔ البتہ، ہمارے پتنگ والے مانجھے کے مقابلے میں، کروموسوم کے ’’پِنّے‘‘ بہت زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔
کروموسوم، عام طور پر جوڑوں (pairs) کی شکل میں ہوتے ہیں؛ اور ہر جاندار میں کروموسوم کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً ایک انسانی خلئے کے مرکزے میں کروموسوم کے 23 (تیئس) جوڑے ہوتے ہیں، یعنی کُل 46 (چھیالیس) کروموسوم۔ ہر جوڑے میں شامل ایک کروموسوم ہمارے والد کا، اور دوسرا ہماری والدہ کا ہوتا ہے۔ ہماری شکل صورت اور عادت مزاج سے متعلق ساری باتیں اِن ہی کروموسوم میں (ڈی این اے کے مختلف حصوں یعنی ’’جین‘‘ کی شکل میں) محفوظ ہوتی ہیں۔ اسی لئے ہم اپنی شکل صورت اور عادت مزاج میں اپنے والدین سے بہت مماثلت رکھتے ہیں۔
ربط