آج یوم دفاع پر شاکر کی خوبصورت شاعری پیش خدمت ہے۔ جس میں شاکر نے لوگوں کو عمل کا پیغام دیا ہے۔
اے پاکستان دے لوکو ! پلیتیاں کوُں مٹا ڈیوؤ
نتاں اے جئیں وی ناں رکھئے، اے ناں اوں کوں ولا ڈیوؤ
اے پاکستان کے لوگوں! اس سرزمین پاک سے تمام گندگی کا نام نشان مٹا ڈالو
اگر تم لوگ یہ کام کرنے سے قاصر ہو تو جن لوگوں نے اسکا نام پاکستان رکھا ہے یہ انکو واپس لوٹا دو
جتھاں مخلص نمازی ہنِ اُو مسجد وی ہے بیت اللہ
جو مُلاّں دے دکاناں ہنِ مسیتاں کوں ڈہا ڈیوؤ
جہاں پر دین کی دولت سے مالا مال نمازی ہوتے ہیں بس وہی مسجد کو اللہ کا گھر کہا جا سکتا ہے
باقی یہ جو ملاں اپنی اپنی دکانیں چمکا رہیں ہیں ایسی مساجد کا گرا دو
اُتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وِکدا پئے
اِیہو جئیں ہر عدالت کُوں بمع عملہ اُڈہ ڈیوؤ
منصفی کے دعوے دار قاضی ہو کر انصاف کو بیچے چلے جا رہیں ہیں
ایسی ہر عدالت کو عملے سمیت ختم کر ڈالو
پڑھو رحٰمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
منافق توُں تاں بہتر ہےِ جو کافر ناں رکھا ڈیوؤ
کلمہ حق کے دعوے دار ہو کر سب کام شیطان کے فروغ کے لیئے ہیں
ایسی منافقت سے تو بہتر ہے کہ کافر کہلوانا شروع کر دو
جے سچ آکھنڑ بغاوت ہےِ بغاوت ناں ہےِ شاکر دا
چڑھاؤ نیزے تے سر بھانویں میڈے خیمے جلا ڈیوؤ
اگر سچ بولنا بغاوت ہے تو آج سے شاکر کا نام بھی بغاوت ہے
اب کوئی میرا سر نیزے کی انّی میں پروئے یا میرے خیموں کا جلا کر راکھ کرے