۴۳۵۹۔عنه ﷺرُوِیَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ دَخَلَ عَلٰی مَرِیْضٍ، قَالَ مَاشَأْنَکَ؟ قَالَ: صَلَّیْتُ بِنَا صَلَاۃَ الْمَغْرِبِ فَقَرَأْتُ الْقَارِعَۃَ فَقُلْتُ: اَللّھُمّ اِنْ کَانَ لِی عِنْدَکَ ذَنْبٌ تُرِیْدُ اَنْ تُعَذِّبْنِیْ بِہٖ فِی الْآخِرَۃِ فَعَجِّلْ ذَلِکَ فِی الدُّنْیَا، فَصِرْتُ کَمَا تَریٰ! فَقَالَ: بِئْسَمَا قُلْتَ:، اَلَا قُلْتَ: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃ ِحَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ فَدَعَا لَہٗ حَتّی اَفَاقَ۔ . (الدعوات : ۱۱۴ / ۲۶۱)
۴۳۵۹۔حضرت رسالت مآب ص ایک مریض کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے پوچھا: تجھے کیا ہوا؟۔اُس نے کہا: آپ ص نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور اس میں -سورہ قارعہ- کی تلاوت کی تو میں نے کہا: -خداوندا! اگر تیرے نزدیک میرا کوئی ایسا گناہ ہے جس پر تو آخرت میں سزا دینا چاہتا ہے تو یہ سزا (آخرت میں دینے کی بجائے جلد ہی دنیا میں دے دے، پس میری یہ حالت ہوگئی ہے جسے آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں آنحضرت ص نے فرمایا: -تم نے بہت غلط بات کہی ہے۔ یوں کیوں نہی کہا۔۔۔۔۔۔رَبَّنا آتِنا في الدّنيا حَسَنَةً وفي الآخِرَةِ حَسَنَةً وقِنا عَذابَ النّارِ!۔چنانچہ آپ ص نے اس کے لیے یہی دعا مانگی اور وہ ٹھیک ہوگیا۔