سید فصیح احمد
لائبریرین
۔
میں خود اسی شش و پینج میں ہوںیعنی لکھنا پڑے گا؟
چلیے آغاز کیے دیتا ہوں۔۔۔
اپنے فرصت کے لمحات میں سے قرطاس و قلم کی ایک یادگار ۔۔۔ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی مجرد ہے جس کے لیے پیشگی معذرت۔
ڈاکٹر بننا خواہش تھی جو پوری نہیں ہو سکیارے قیصرانی بھائی یہ تو صاف پڑھی جا رہی ہے ۔ کمال ہے بھئی۔
یعنی بقول اساتذہ کے "لکھائی سے مار کھا گئے"۔۔۔۔ڈاکٹر بننا خواہش تھی جو پوری نہیں ہو سکی
لکھائی پر مار کھانے جوگا نہیں تھا نا، اس لئے لکھائی سے ہی مار کھا گیایعنی بقول اساتذہ کے "لکھائی سے مار کھا گئے"۔۔۔ ۔
عمدہ ترین۔۔۔۔لکھائی پر مار کھانے جوگا نہیں تھا نا، اس لئے لکھائی سے ہی مار کھا گیا
عمدہ ترین۔۔۔ ۔
معذرت، مگر کافی غیر مستقل مزاجی کی عکاس ہے یہ لکھائیبال پین کے ساتھ بے ڈھنگی لکھائی!۔
کٹے ہوئے مارکر کے ساتھ کچھ بہتر۔
معذرت، مگر کافی غیر مستقل مزاجی کی عکاس ہے یہ لکھائی
ویسے ہی جیسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی والی کتاب کو جانا تھا
بات تو آپ کی سچ ہے مگر آپ نے کیسے جانا؟
میں نے کافی ماہ بعد کچھ لکھا ہے بال پین سے ۔ویسے ہی جیسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی والی کتاب کو جانا تھا
ویسے دونوں تحاریر کو غور سے دیکھیں تو جہاں آپ کو کٹا مارکر ملا، آپ نے اچھا لکھا، جہاں عام بال پوائنٹ تھی، اس میں لکھائی میں کچھ ناپختہ پن واضح ہے
اگر ناراض نہ ہوں تو ایک اور نکتہ بھی ہے بتانے کو؟
وہ نکتہ یہ ہے کہ آپ کہیں ذکر کر چکے ہیں اپنے مارشل آرٹس وغیرہ کے سلسلے میں، کہ آپ مستقل مزاج نہیں ہیںمیں نے کافی ماہ بعد کچھ لکھا ہے بال پین سے ۔
(سوائے پیپروں کے)جب سے لیپ ٹاپ ہاتھ لگا ہے لکھنا لکھانا چھوٹ گیا ہے۔
ضرور بتائیں قیصرانی بھائی۔
آپ کی گہری نگاہ کی داد پہلے بھی دے چکا ہوں ۔ پھر سے قبول فرمائیں۔
وہ نکتہ یہ ہے کہ آپ کہیں ذکر کر چکے ہیں اپنے مارشل آرٹس وغیرہ کے سلسلے میں، کہ آپ مستقل مزاج نہیں ہیں
یہ تو بہت اچھا ہوا۔ میری طرف سے مبارکباد قبول کیجئے، کہ میں بھی اس مرحلے سے گذر چکا ہوں اور جانتا ہوں کہ کتنا مشکل کام آپ کر چکے ہیںیاداشت بھی ما شا اللہ خوب پائی ہے آپ نے۔
مگر پانچ ماہ سے میں مستقل مزاج ہوں ۔ میں نے چند ایک مشقوں سے اپنی غیر مستقل مزاجی پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے ۔
ان مشقوں کی بدولت اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں کسی بھی کام کو پایا تکمیل تک پہنچا سکتا ہوں ۔
نہایت شکر گزار ہوں قیصرانی بھائی۔یہ تو بہت اچھا ہوا۔ میری طرف سے مبارکباد قبول کیجئے، کہ میں بھی اس مرحلے سے گذر چکا ہوں اور جانتا ہوں کہ کتنا مشکل کام آپ کر چکے ہیں
سیلف سجیشن واقعی عمدہ طریقہ ہے۔ آپ کی کامیابی کی تو دعا بھی نہیں کرنی پڑے گی کہ آپ اتنے اچھے طریقے سے جا رہے ہیںنہایت شکر گزار ہوں قیصرانی بھائی۔
در اصل جب میں نے خوب گہرائی سے اس بارے میں سوچا تو میں نے یہ جانا کہ جب ہم چھوٹے چھوٹے کاموں پر توجہ نہیں دیتے ،ان کو پورا نہیں کرتے ، ہم یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مکمل ہونے نا ہونے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا ،آج نہیں تو کل کر لیں گے تو یہ رویہ ہمارے ذہن ، ہمارے لاشعور میں بڑا برا اثر ڈالتا ہے ، اور پھر ہم کسی بھی کام کو مستقل مزاجی سے نہیں کر سکتے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ تو میں نے سب سے پہلے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کو روٹین سے مکمل کرنا شروع کر دیا ۔مثلاََ
صبح اٹھ کر روزانہ ٹوتھ برش، نہانا، نماز کی پابندی،ورزش، مطالعہ، وغیرہ وغیرہ
میں ان چھوٹے چھوٹے معاملات میں اتنا سخت ہوا کہ باقائدہ ایک ماہ کے لیے ایسے کاموں کی لسٹ تاریخ کے حساب سے پرنٹ کر لی اور روازہ کے حساب سے جو کام کر لیتا اسے ٹک لگا دیتا،بارش ہو ، بیماری ہو،یا کوئی اور مسئلہ ، میں نے کبھی ناغہ نہیں ہونے دیا۔اور مہینے کی آخری تاریخ میں مکمل اس لسٹ کا جائزہ لیتا ۔ میں نے با قاعدہ ہر چیز کے نمبر رکھے ۔ 90% پر خود کو پاس کرتا ۔ مگر میں ہر ماہ پورے سو فیصد ہی حاصل کرتا رہا۔
اس کے ساتھ ساتھ روزانہ رات کو سوتے وقت اور صبح اٹھ کر میں خود کو سجیشن دیا کرتا ہوں ۔اور مجھے یقین ہے اب میں کسی بھی کام کو تکمیل تک پہنچا سکتا ہوں ۔