مہوش علی
لائبریرین
اس آرٹیکل پر غور کریں۔
ایم کیو ایم پنجاب میں,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی
گزشتہ روز ایم کیو ایم کے شائننگ سٹار‘ مصطفی کمال لاہور آئے‘ تو ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس میں آنے والے دنوں کی دھندلی سی ایک تصویر ابھرآئی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ عمران خان چند روز پہلے تک عوام سے وعدے کر رہے تھے کہ وہ الطاف حسین کو جیل پہنچا کر دم لیں گے۔ اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا ؟کہ وہ حکومت سے باہر رہ کر بھی‘ حکمرانوں کی طرح اپنا وعدہ بھول گئے۔ بہت دنوں سے وہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا نام نہیں لے رہے تھے۔ مصطفی کمال نے لاہور میں عشائیہ دیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو ایم کیو ایم کی مخالفت میں پیش پیش‘ دوسری جماعت یعنی مسلم لیگ (ن)کی صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیرقانون رانا ثنااللہ ‘ مصطفی کمال کے ساتھ تشریف فرما تھے اور دونوں کے سامنے عمران خان کے ہمزاد حفیظ اللہ خان نیازی تشریف فرما نظر آئے۔ میرے دل میں فوراً وہ اطلاع لہرائی‘ جو چند ہفتے پہلے ملنے پر‘ میں نے اسی کالم میں عرض کیا تھا کہ ایک نئی آئی جے آئی ‘ نئے نام کے ساتھ معرض وجود میں لائی جا رہی ہے۔ آئی جے آئی کا اس لئے لکھا تھا کہ اسے بنانے والے جنرل صاحبان نے‘ واضح طور پہ اعتراف کر لیا ہے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کی فیصلہ کن کامیابی کو روکنے کے لئے یہ اتحاد تشکیل دیا تھا اور اس میں وہ کامیاب رہے کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید وفاقی حکومت بنانے کے لئے دوسری پارٹیوں کی محتاج ہو گئی تھیں اور اس وجہ سے مستحکم جمہوری حکومت قائم نہ ہو سکی۔
مذکورہ تینوں جماعتوں کے مابین انتہائی تلخی پائی جاتی تھی۔ عمران خان‘ نوازشریف اور ایم کیو ایم دونوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔جواب میں الطاف حسین ‘ عمران خان پر طنز کے تیر چلا رہے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ یہ تینوں جماعتیں کبھی ایک دوسرے کو برداشت تک نہیں کر پائیں گی۔ مگر جو معرکہ دیکھنے میں آیا وہ یہ تھا کہ ایم کیو ایم کے متعدد لیڈر اپنے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ ان میں مسلم لیگ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ عمران خان کے ہمزاد بھی اور مسلم لیگ (ق) کے ڈاکٹر خالد رانجھا بھی۔ بظاہر یہ ایک سماجی تقریب تھی‘ مگر کچھ قربتیں ایسی بھی نظر آرہی تھیں‘ جن کا سیاسی مفہوم آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگلے روز ایسی ہی ایک جھلک ٹیلیویژن چینلز پر نظر آئی‘ جب گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف بھرپور مسکراہٹوں اور پیار بھری نگاہوں کا تبادلہ کرتے ہوئے ‘ باہم میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کو” کٹی“ کا تلفظ بتا کرسامعین کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف یا تنازعہ نہیں تھا۔ صرف ”کٹی “تھی‘ جو پیار کرنے والوں میں محض اس لئے ہوتی ہے کہ ایک روٹھ جائے اور دوسرا منانے کے لئے پیار کا اظہار کرے۔
اس کے ساتھ ہی شہبازشریف نے ایم کیو ایم کو پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں کا پروانہ جاری کر دیا۔ ایم کیو ایم‘ آزاد کشمیر کے بعد گلگت اور بلتستان میں اپنی سیاسی موجودگی ثابت کر چکی ہے۔ بہت دنوں سے وہ پنجاب میں اپنی تنظیمیں قائم کر رہی ہے۔ یہاں اسے انتظامیہ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ایم کیو ایم کی تو ابتدا ہی‘ تندی باد مخالف میں‘ شوق پرواز کی مرہون منت ہے۔ اس کے کارکن اور لیڈر ماریں کھاتے بھی ہیں اور ماریں لگاتے بھی ہیں۔ مگر جس راستے پر چل نکلیں‘ اسے چھوڑتے نہیں۔ پہلے ایم کیو ایم کو کراچی میں محدود رکھنے کی کوشش کی گئی۔ وہ پورے سندھ میں پھیل گئی۔ آزاد کشمیر میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے آئی‘ تو اس کے رضاکاروں کے مشکلات پیدا کی گئیں۔ نتیجے میں اس نے آزاد کشمیر اسمبلی کی کئی نشستوں پر اچھی بھلی تعداد میں ووٹ لئے اور ایک نشست جیت کر وہاں کی اسمبلی میں پہنچ گئی۔ یہی تجربہ گلگت بلتستان میں دہرایا گیا۔ وہ سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کرنے والی دوسری جماعت بن گئی۔ جب ایم کیو ایم پر لسانی تعصب‘ تشددپسندی اور مافیا ٹائپ سرگرمیوں کے الزام لگا کر‘ اسے چھوٹے سے ایک گھونگے میں سمیٹ دینے کی کوششیں کی جا رہی تھیں‘ تو پنجاب سے ایک میری ہی آواز اٹھی تھی کہ اسے سیاست کے قومی دہارے میں آنے کا موقع دینا چاہیے۔ اگر یہ الزامات درست بھی ہیں تو کچلنے اور دبانے کی کوششوں کے نتیجے میں سچائی بن سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر انہیں قومی سیاسی دہارے میں شامل ہونے کے مواقع دیئے گئے تو وہ ازخود وسعتوں میں پھیلنے کے لئے‘ ملک میں آباد تمام لسانی اور نسلی گروہوں کی حمایت حاصل کرنے کی طرف مائل ہو گی اور اسے خود ہی اپنا گھونگا توڑ کر‘ ملک بھر میں اپنے وجود کا ثبوت دینا پڑے گا۔ مجھے یاد ہے جب 80ء کے عشرے میں ایم کیو ایم کے نوجوان پہلی بار منتخب ہو کر قومی اسمبلی کے اندر آئے‘ تو نئے جوان ہونے والے بچھڑوں کی طرح ‘ پرانے جغادریوں کے ہجوم میں کچھ حیران حیران سے پھر رہے تھے۔ وہ دانستہ مخصوص طرز کے پاجامے پہنے اور کرتوں پر واسکٹیں چڑہائے چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں آتے اور اقتدار کے ایوانوں کی رسوم کو تعجب سے دیکھتے۔ بعد میں وہ سیکھتے چلے گئے اور اب ایم کیوایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے‘ قومی اسمبلی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میں نے اس وقت لکھا تھا کہ یہ جوشیلے اور غصیلے نوجوان‘ جلد ہی اقتدار کے طورطریقے سیکھ کر شادیاں کر لیں گے تو پرانے کھلاڑیوں کے بھی کان کتریں گے۔ کئی مخلوط حکومتوں کے تجربے کے بعد وہ بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور اگر کوئی برا نہ منائے تو عرض کروں گا کہ کان بھی کترنے لگے ہیں۔ اقتدار کی بانٹ میں ایم کیو ایم بہت سخت بارگین کرتی ہے۔ اس کا طریقہ شاید ہی کسی دوسری جماعت کو آتا ہو ۔
اس جماعت نے آہستہ آہستہ اپنی لسانی اور نسلی شناخت کی جھلّیاں اتار کے‘ اپنے آپ کو سیاست کے مرکزی دھارے کا حصہ بنا لیا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں‘ سیاسی حیثیت بنائے بغیر وہ بطور جماعت اقتدارکا غالب حصہ نہیں لے پائے گی۔ اس نے اپنی لسانی شناخت کو قومی شناخت میں بدلنے کی خاطر‘ بہت عرصہ پہلے اپنا نام مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کر لیا تھا۔ اسی وقت الطاف حسین کے مستقبل کے عزائم سامنے آگئے تھے۔ کراچی میں انہوں نے سندھیوں‘ پنجابیوں ‘ پٹھانوں‘ کشمیریوں‘ بلتستانیوں اور بلوچوں کو بطور خاص اپنی جماعت میں شامل کیا۔ بعض کو اسمبلیوں میں نمائندگی بھی دلائی اور اب وہ اپنا ریکارڈ لے کر پنجاب کے عوام میں رابطہ مہم چلانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔
ایم کیو ایم کو اپنے مخصوص حالات میں کبھی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل رہی اور کبھی اسے عتاب کا نشانہ بننا پڑا۔ اب وہ کھیل کے اصول جان گئی ہے۔ طویل مدتی مقاصد کے تحت جو نیا سیاسی تانا بانا تیار کیا جا رہا ہے‘ اس میں وہ بڑے کردار کی خواہاں ہے۔ جو ہر سیاسی جماعت کا حق ہوتا ہے۔جدوجہد کے اس طویل عمل کے دوران ایم کیو ایم نے مخصوص گروہی شناخت سے باہر نکل کر اپنا طبقاتی کردار واضح کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یہی کردار پاکستان کے مخصوص سیاسی حالات میں ایک نیا تجربہ ہے۔ وہ کمیونسٹ اور سوشلسٹ نہیں‘ لیکن غریب اور محروم طبقوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اور اسمبلیوں میں نچلے متوسط طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نمائندگی کے مواقع دیتی ہے۔ پنجاب میں ایم کیو ایم کے اس کردار کا اظہار ان نمائندوں سے ہوتا ہے‘ جو اس نے مسلسل انتخابات کے دوران اسمبلیوں میں بھیجے۔ پنجاب میں ابھی تک کوئی سیاسی پارٹی اتنی واضح طبقاتی شناخت کے ساتھ متوسط اور نچلے طبقے کے نمائندوں کو بڑی تعداد میں اسمبلیوں کے اندر نہیں بھیج سکی‘ جتنی تعداد میں ایم کیو ایم بھیجتی ہے۔ یہی وہ تجربہ ہے جسے دیکھ کر پنجاب میں متوسط طبقوں کے پڑھے لکھے نوجوان اپنی امنگوں اور آرزوؤں کی تکمیل کے لئے ایم کیو ایم کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ مگر اس کے سخت تنظیمی ڈھانچے میں‘ انہیں کچھ مشکلوں کا سامنا ضرور ہو گا۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم کو کچھ نہ کچھ لچک ضرور پیدا کرنا پڑے گی۔ جماعت جتنی بڑی ہوتی ہے‘ اس کا تنظیمی ڈھانچہ اتنا ہی ڈھیلا ہونے لگتا ہے۔ ڈسپلن اور اس ڈھیلے ڈھالے پن کو یکجا کرنا ہی قیادت کی خوبی ہوتی ہے۔ یہ باتیں بھارت کی کانگریس اور قائد اعظم کی مسلم لیگ سے سیکھی جا سکتی ہیں‘ جن میں ڈسپلن کی پابندی بھی ہے اور شخصی سیاسی آزادیاں بھی۔ الطاف بھائی کو یاد رکھنا ہو گا کہ سیاسی جماعتوں پر شخصی اور خاندانی اجارہ داریوں سے عوام پہلے ہی بیزار ہیں۔
ایم کیو ایم پنجاب میں,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی
گزشتہ روز ایم کیو ایم کے شائننگ سٹار‘ مصطفی کمال لاہور آئے‘ تو ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس میں آنے والے دنوں کی دھندلی سی ایک تصویر ابھرآئی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ عمران خان چند روز پہلے تک عوام سے وعدے کر رہے تھے کہ وہ الطاف حسین کو جیل پہنچا کر دم لیں گے۔ اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا ؟کہ وہ حکومت سے باہر رہ کر بھی‘ حکمرانوں کی طرح اپنا وعدہ بھول گئے۔ بہت دنوں سے وہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا نام نہیں لے رہے تھے۔ مصطفی کمال نے لاہور میں عشائیہ دیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو ایم کیو ایم کی مخالفت میں پیش پیش‘ دوسری جماعت یعنی مسلم لیگ (ن)کی صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیرقانون رانا ثنااللہ ‘ مصطفی کمال کے ساتھ تشریف فرما تھے اور دونوں کے سامنے عمران خان کے ہمزاد حفیظ اللہ خان نیازی تشریف فرما نظر آئے۔ میرے دل میں فوراً وہ اطلاع لہرائی‘ جو چند ہفتے پہلے ملنے پر‘ میں نے اسی کالم میں عرض کیا تھا کہ ایک نئی آئی جے آئی ‘ نئے نام کے ساتھ معرض وجود میں لائی جا رہی ہے۔ آئی جے آئی کا اس لئے لکھا تھا کہ اسے بنانے والے جنرل صاحبان نے‘ واضح طور پہ اعتراف کر لیا ہے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کی فیصلہ کن کامیابی کو روکنے کے لئے یہ اتحاد تشکیل دیا تھا اور اس میں وہ کامیاب رہے کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید وفاقی حکومت بنانے کے لئے دوسری پارٹیوں کی محتاج ہو گئی تھیں اور اس وجہ سے مستحکم جمہوری حکومت قائم نہ ہو سکی۔
مذکورہ تینوں جماعتوں کے مابین انتہائی تلخی پائی جاتی تھی۔ عمران خان‘ نوازشریف اور ایم کیو ایم دونوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔جواب میں الطاف حسین ‘ عمران خان پر طنز کے تیر چلا رہے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ یہ تینوں جماعتیں کبھی ایک دوسرے کو برداشت تک نہیں کر پائیں گی۔ مگر جو معرکہ دیکھنے میں آیا وہ یہ تھا کہ ایم کیو ایم کے متعدد لیڈر اپنے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ ان میں مسلم لیگ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ عمران خان کے ہمزاد بھی اور مسلم لیگ (ق) کے ڈاکٹر خالد رانجھا بھی۔ بظاہر یہ ایک سماجی تقریب تھی‘ مگر کچھ قربتیں ایسی بھی نظر آرہی تھیں‘ جن کا سیاسی مفہوم آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگلے روز ایسی ہی ایک جھلک ٹیلیویژن چینلز پر نظر آئی‘ جب گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف بھرپور مسکراہٹوں اور پیار بھری نگاہوں کا تبادلہ کرتے ہوئے ‘ باہم میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کو” کٹی“ کا تلفظ بتا کرسامعین کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف یا تنازعہ نہیں تھا۔ صرف ”کٹی “تھی‘ جو پیار کرنے والوں میں محض اس لئے ہوتی ہے کہ ایک روٹھ جائے اور دوسرا منانے کے لئے پیار کا اظہار کرے۔
اس کے ساتھ ہی شہبازشریف نے ایم کیو ایم کو پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں کا پروانہ جاری کر دیا۔ ایم کیو ایم‘ آزاد کشمیر کے بعد گلگت اور بلتستان میں اپنی سیاسی موجودگی ثابت کر چکی ہے۔ بہت دنوں سے وہ پنجاب میں اپنی تنظیمیں قائم کر رہی ہے۔ یہاں اسے انتظامیہ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ایم کیو ایم کی تو ابتدا ہی‘ تندی باد مخالف میں‘ شوق پرواز کی مرہون منت ہے۔ اس کے کارکن اور لیڈر ماریں کھاتے بھی ہیں اور ماریں لگاتے بھی ہیں۔ مگر جس راستے پر چل نکلیں‘ اسے چھوڑتے نہیں۔ پہلے ایم کیو ایم کو کراچی میں محدود رکھنے کی کوشش کی گئی۔ وہ پورے سندھ میں پھیل گئی۔ آزاد کشمیر میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے آئی‘ تو اس کے رضاکاروں کے مشکلات پیدا کی گئیں۔ نتیجے میں اس نے آزاد کشمیر اسمبلی کی کئی نشستوں پر اچھی بھلی تعداد میں ووٹ لئے اور ایک نشست جیت کر وہاں کی اسمبلی میں پہنچ گئی۔ یہی تجربہ گلگت بلتستان میں دہرایا گیا۔ وہ سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کرنے والی دوسری جماعت بن گئی۔ جب ایم کیو ایم پر لسانی تعصب‘ تشددپسندی اور مافیا ٹائپ سرگرمیوں کے الزام لگا کر‘ اسے چھوٹے سے ایک گھونگے میں سمیٹ دینے کی کوششیں کی جا رہی تھیں‘ تو پنجاب سے ایک میری ہی آواز اٹھی تھی کہ اسے سیاست کے قومی دہارے میں آنے کا موقع دینا چاہیے۔ اگر یہ الزامات درست بھی ہیں تو کچلنے اور دبانے کی کوششوں کے نتیجے میں سچائی بن سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر انہیں قومی سیاسی دہارے میں شامل ہونے کے مواقع دیئے گئے تو وہ ازخود وسعتوں میں پھیلنے کے لئے‘ ملک میں آباد تمام لسانی اور نسلی گروہوں کی حمایت حاصل کرنے کی طرف مائل ہو گی اور اسے خود ہی اپنا گھونگا توڑ کر‘ ملک بھر میں اپنے وجود کا ثبوت دینا پڑے گا۔ مجھے یاد ہے جب 80ء کے عشرے میں ایم کیو ایم کے نوجوان پہلی بار منتخب ہو کر قومی اسمبلی کے اندر آئے‘ تو نئے جوان ہونے والے بچھڑوں کی طرح ‘ پرانے جغادریوں کے ہجوم میں کچھ حیران حیران سے پھر رہے تھے۔ وہ دانستہ مخصوص طرز کے پاجامے پہنے اور کرتوں پر واسکٹیں چڑہائے چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں آتے اور اقتدار کے ایوانوں کی رسوم کو تعجب سے دیکھتے۔ بعد میں وہ سیکھتے چلے گئے اور اب ایم کیوایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے‘ قومی اسمبلی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میں نے اس وقت لکھا تھا کہ یہ جوشیلے اور غصیلے نوجوان‘ جلد ہی اقتدار کے طورطریقے سیکھ کر شادیاں کر لیں گے تو پرانے کھلاڑیوں کے بھی کان کتریں گے۔ کئی مخلوط حکومتوں کے تجربے کے بعد وہ بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور اگر کوئی برا نہ منائے تو عرض کروں گا کہ کان بھی کترنے لگے ہیں۔ اقتدار کی بانٹ میں ایم کیو ایم بہت سخت بارگین کرتی ہے۔ اس کا طریقہ شاید ہی کسی دوسری جماعت کو آتا ہو ۔
اس جماعت نے آہستہ آہستہ اپنی لسانی اور نسلی شناخت کی جھلّیاں اتار کے‘ اپنے آپ کو سیاست کے مرکزی دھارے کا حصہ بنا لیا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں‘ سیاسی حیثیت بنائے بغیر وہ بطور جماعت اقتدارکا غالب حصہ نہیں لے پائے گی۔ اس نے اپنی لسانی شناخت کو قومی شناخت میں بدلنے کی خاطر‘ بہت عرصہ پہلے اپنا نام مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کر لیا تھا۔ اسی وقت الطاف حسین کے مستقبل کے عزائم سامنے آگئے تھے۔ کراچی میں انہوں نے سندھیوں‘ پنجابیوں ‘ پٹھانوں‘ کشمیریوں‘ بلتستانیوں اور بلوچوں کو بطور خاص اپنی جماعت میں شامل کیا۔ بعض کو اسمبلیوں میں نمائندگی بھی دلائی اور اب وہ اپنا ریکارڈ لے کر پنجاب کے عوام میں رابطہ مہم چلانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔
ایم کیو ایم کو اپنے مخصوص حالات میں کبھی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل رہی اور کبھی اسے عتاب کا نشانہ بننا پڑا۔ اب وہ کھیل کے اصول جان گئی ہے۔ طویل مدتی مقاصد کے تحت جو نیا سیاسی تانا بانا تیار کیا جا رہا ہے‘ اس میں وہ بڑے کردار کی خواہاں ہے۔ جو ہر سیاسی جماعت کا حق ہوتا ہے۔جدوجہد کے اس طویل عمل کے دوران ایم کیو ایم نے مخصوص گروہی شناخت سے باہر نکل کر اپنا طبقاتی کردار واضح کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یہی کردار پاکستان کے مخصوص سیاسی حالات میں ایک نیا تجربہ ہے۔ وہ کمیونسٹ اور سوشلسٹ نہیں‘ لیکن غریب اور محروم طبقوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اور اسمبلیوں میں نچلے متوسط طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نمائندگی کے مواقع دیتی ہے۔ پنجاب میں ایم کیو ایم کے اس کردار کا اظہار ان نمائندوں سے ہوتا ہے‘ جو اس نے مسلسل انتخابات کے دوران اسمبلیوں میں بھیجے۔ پنجاب میں ابھی تک کوئی سیاسی پارٹی اتنی واضح طبقاتی شناخت کے ساتھ متوسط اور نچلے طبقے کے نمائندوں کو بڑی تعداد میں اسمبلیوں کے اندر نہیں بھیج سکی‘ جتنی تعداد میں ایم کیو ایم بھیجتی ہے۔ یہی وہ تجربہ ہے جسے دیکھ کر پنجاب میں متوسط طبقوں کے پڑھے لکھے نوجوان اپنی امنگوں اور آرزوؤں کی تکمیل کے لئے ایم کیو ایم کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ مگر اس کے سخت تنظیمی ڈھانچے میں‘ انہیں کچھ مشکلوں کا سامنا ضرور ہو گا۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم کو کچھ نہ کچھ لچک ضرور پیدا کرنا پڑے گی۔ جماعت جتنی بڑی ہوتی ہے‘ اس کا تنظیمی ڈھانچہ اتنا ہی ڈھیلا ہونے لگتا ہے۔ ڈسپلن اور اس ڈھیلے ڈھالے پن کو یکجا کرنا ہی قیادت کی خوبی ہوتی ہے۔ یہ باتیں بھارت کی کانگریس اور قائد اعظم کی مسلم لیگ سے سیکھی جا سکتی ہیں‘ جن میں ڈسپلن کی پابندی بھی ہے اور شخصی سیاسی آزادیاں بھی۔ الطاف بھائی کو یاد رکھنا ہو گا کہ سیاسی جماعتوں پر شخصی اور خاندانی اجارہ داریوں سے عوام پہلے ہی بیزار ہیں۔