ظہیر بھائی فارسی سے میں خود بھی نابلد ہوں لیکن اقبال کا فارسی شعر پیش کر رہا تھا تو تھوڑی سی تحقیق بطور ہوم ورک کی تھی جس کی وجہ سے آپ کی رائے سے اختلاف پیدا ہو رہا ہے دیکھ لیجیے گا :
دوحرفی
لغتنامه دهخدا
دوحرفی . [ دُ ح َ ] (
ص نسبی ) ثنایی . کلمه ای که دو حرف داشته باشد. (یادداشت مؤلف ). با دو حرف .
جستوجوی دوحرفی در واژهنامههای دیگر نگارش معنی دیگر برای دوحرفی
اس کو یائے تنکیر کہتے ہیں اور یہ غیر معیّن اشخاص یا اشیاء کے لیے استعمال ہوتی ہے جیسا کہ آپ کے پیش کردہ شعر میں گل اور بلبل خاص نہیں بلکہ عام مراد ہیں تو انھیں "گلی" اور "بلبلی" کر دیا -حوالہ دیکھیے:
Find Urdu meaning of یائے تَنکِیر and related idioms and phrases in Rekhta Urdu Lughat
www.rekhtadictionary.com
یائے تَنکِیر
yaa-e-tankiir•या-ए-तंकीर
یائے تَنکِیر کے اردو معانی
اسم, مؤنث
- اعلام مشترکہ کے آخر میں غیر معین اشخاص یا اشیاء مراد لینے کی غرض سے بڑھائی جانی والی ’’ے ‘‘ جیسے شخصے ، مردے وزیرے وغیرہ ایسی ے اردو میں لازما مجہول ہوتی ہے اور جدید فارسی میں معروف ہوتی ہے ۔
اسی طرح مولانا رومی کا شعر ہے :
زهره نی کس را که یک حرفی از آن
یا بدزدد یا فزاید در بیان
.None dares either steal (take away) a single letter thereof or add to the plain Word
یہاں بھی حرف خاص نہیں کوئی بھی ایک حرف مراد ہے لہٰذا "یک حرفی " میں یائے تنکیر ہے جو ترجمے سے بھی عیاں ہے لیکن اقبال کے شعر میں ،میرا غالب گمان یہی ہے
دار (سولی )کا ذکر کر کے خاص منصور( ر ح )کی طرف اشارہ ہے سو دو حرفی سے بھی ان کے کہے دو لفظ "انا الحق " مراد ہیں،لہٰذا دو حرفی میں تخصیص ہے نہ کہ تعمیم -واللہ اعلم بالصواب