• الہی مرا بہ قضای خویش راضی کن ، بہ عنایت خرسند ، از ہوای نفس دور دار و در شریعت بند۔
    (مناجات نامہ ، خواجہ عبد اللہ انصاری)
    میریا ربا مانہہ تُساں نی مرضی تے راضی رہݨ والا بݨایو ، نعمتاں ملݨ تے خوش ہوݨ والا بݨایو۔ نفس دی خاہِشاں توں پریرے کر دیو اَتے شریعت تے چلݨ والا بنایو۔
    الف نظامی
    الف نظامی
    الہی ، مجھے اپنی مشیت پر راضی رہنے اور عنایت پر شادمان رہنے کی توفیق عطا فرما ، نفسانی خواہشات سے دور رکھ اور شریعت کا پابند بنا۔
    (مناجات نامہ ، خواجہ عبد اللہ انصاری ، صفحہ 40)
    انسان کی محدودیت:
    علمی میدان میں انسان کی محدودیت دو طرح کی ہے:
    تجزیاتی محدودیت - Analytic limitation
    تجرباتی محدودیت - Experimental limitation
    الف نظامی
    الف نظامی
    تجرباتی محدودیت کا تعلق پیمائشی آلات کی پیمائش کی حد سے ہے۔
    الف نظامی
    الف نظامی
    اس کے علاوہ نہایت عرفان کے بارے میں بھی دو اقوال ہیں:
    1- العجز عن درک الادراک ادراک
    (کہیں یہ قول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے اور کہیں مولا علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب کیا جاتا ہے )

    2- حقیقت تمام تر مدرک نہیں ہوتی
    (کشکول کلیمی ، الشیخ کلیم اللہ جہاں آبادی)
    محمداحمد
    محمداحمد
    یہ کافی دقیق مضمون معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ لڑی کھول لی جائے تو بہتر رہے گا۔
    رنگ + نسل + زبان + جغرافیہ + کلچر = قوم پسندی
    قوم پسندی
    + نرگسیت = قوم پرستی
    قوم پرستی
    + تشدد + قتل و غارت گری = فاشزم
    الف نظامی
    الف نظامی
    قوم پسندی متوازن ہوتی ہے اگر آپ دوسری اقوام کو بھی انسانی سطح پر برابر سمجھتے ہیں اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کا خیال ذہن میں نہیں ہوتا۔

    قوم پرستی کی سطح پر "انا خیر منہ" یعنی "میں اس سے بہتر ہوں" والی سوچ غالب ہوتی ہے۔

    جب قوم پرستی میں تشدد اور قتل و غارت گری شامل ہو جائے تو وہ فاشزم بن جاتی ہے۔
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
  • لوڈ ہو رہا ہے…
Top