ایک اور غزل ہوئی ہے، اصلاح کے لیے پیش ہے۔
یہ خزائیں، زرد پتے اور اپنی بے بسی
آس ٹوٹی، خواب بکھرے آہ میری بے بسی
زندگی کے رنگ سارے اُڑ گئے تصویر سے
رفتہ رفتہ کینوس پر چھائی ایسی بے بسی
سامنے بہتا رہا دریا مگر باقی رہی
تشنگی سی تشنگی اور بے بسی سی بے بسی
ماجرا کیا ہے بھلا؟ فرمایئے...