جاسم محمد
محفلین
بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آپ قومی کرنسی میں لین دین اور ٹیکس ادا کرنے کے بعد اپنی بچت کو کسی بھی محفوظ جگہ میں رکھ سکتے ہیں۔ چاہیں تو اس سرمایہ کو کسی اور کرنسی میں کنورٹ کر لیں یا اس سے کوئی اثاثہ جیسے زمین یا مکان خرید لیں تاکہ اس کی مستقبل میں قدر کم نہ ہو بلکہ بڑھتی رہے۔کرنسی کی قیمت کم ہونے میں ایک بڑا عنصر اس کا بہت زیادہ تعداد میں چھاپنا بھی ہے تو اس حرکت کی قیمت جو حکومت اپنی نا اہلی چھپانے کے لئے کرتی ہے میں کیوں بھروں؟؟ دوسری بات میں اپنی بچتوں کو کیوں نہ بیرونی ممالک کی کرنسی میں یا سونے میں تبدیل کر کے رکھوں مجھے اس نظام کا یرغمال تو نہیں بننا جو بے باپ کی اولاد اور نا اہلوں کی پناہ گاہ ہو۔
ادھر مغرب میں ہمیں ہمارے بینکس بچت کو مختلف ہیج فنڈز میں سرمایہ کاری کرنے کا آپشن دیتے ہیں جو سالانہ ۱۰ فیصد تک منافع دے سکتے ہیں۔ چونکہ یہاں افراط زر ۱۰ فیصد سے کم ہوتی ہے یوں ان فنڈز میں بچت کرنے پر آپ کے سرمایہ کی قدر مستقبل میں کم نہیں ہوتی