محمدکامران اختر
محفلین
ہمارا معاشرہ بے شمار دینی اور سیاسی جماعتوں اور تحریکوں سے اٹا ہوا ہے۔ حتی کہ ایک فلاحی تنظیم کے سربرا ہ سے فیس بک پر پوچھا گیا کہ آپ کا منشور کیا ہے ۔ جواب ملا منشور کا تو معلوم نہیں تاہم ہم کام اچھے اچھے ہی کرتے ہیں۔کسی ادیب کے بقول لاہور میں تنظیمیں زیادہ ہیں اس لیے بعض اوقات صدور کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
بہر حال ہمارے پاس بھی ایک تنظیم تجویز ہے۔ مگر مجوزہ تنظیم منشور اور لائحہ عمل کے بعد ہی تشکیل دی جائے گی۔
اس کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ مذہبی فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کرنا ۔
2۔ دوقومی نظریے کو عالمگیر سطح پر فروغ دینا۔
3۔ دینی اور قومی معاملات کے بارے میں شعور و آگہی کے لیے علمی مہم چلانا۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی سنجیدہ اور باوقار طریق کا ر اپنا یا جائے گا۔ اس طریق کار کا ایک خاکہ حسب ذیل ہے۔
1۔ سوشل میڈیا پر بھرپور اور منظم مہم چلانا۔
2۔ چھوٹے پیمانے پر تربیتی نشستوں کا اہتمام کرنا۔
3۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرز پر کورسز کرانا۔
4۔ منبر و محراب کو فرقاواریت کے خلاف استعمال کرنا۔
5۔ تعلیمی اداروں میں رابطہ کر کے بچوں میں مقابلہ جات منعقد کرنا۔
اخراجات کی تکمیل کے لیے معاشرے میں کوئی مہم نہیں چلائی جائے گی ۔ زکوہ ، عشر وغیرہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ کوشش کی جائے گی کہ ایسے ذرائع اختیار کیے جائیں جن میں زیادہ فنڈز کی ضرورت نہ ہو ۔
قیادت کا چناؤ مشاورت سے ہوگا ۔ اس حوالے سے باکردار اور علمی صلاحیت کے حامل لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔
تحریک میں شمولیت سےپہلے منشور کا مطالعہ کرنا ضروری قرار دیا جا ئے گا۔
درج بالا نکات کے حوالے سے آپ کی رائے ، رد عمل اور تجاویز درکارہیں۔
بہر حال ہمارے پاس بھی ایک تنظیم تجویز ہے۔ مگر مجوزہ تنظیم منشور اور لائحہ عمل کے بعد ہی تشکیل دی جائے گی۔
اس کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ مذہبی فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کرنا ۔
2۔ دوقومی نظریے کو عالمگیر سطح پر فروغ دینا۔
3۔ دینی اور قومی معاملات کے بارے میں شعور و آگہی کے لیے علمی مہم چلانا۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی سنجیدہ اور باوقار طریق کا ر اپنا یا جائے گا۔ اس طریق کار کا ایک خاکہ حسب ذیل ہے۔
1۔ سوشل میڈیا پر بھرپور اور منظم مہم چلانا۔
2۔ چھوٹے پیمانے پر تربیتی نشستوں کا اہتمام کرنا۔
3۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرز پر کورسز کرانا۔
4۔ منبر و محراب کو فرقاواریت کے خلاف استعمال کرنا۔
5۔ تعلیمی اداروں میں رابطہ کر کے بچوں میں مقابلہ جات منعقد کرنا۔
اخراجات کی تکمیل کے لیے معاشرے میں کوئی مہم نہیں چلائی جائے گی ۔ زکوہ ، عشر وغیرہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ کوشش کی جائے گی کہ ایسے ذرائع اختیار کیے جائیں جن میں زیادہ فنڈز کی ضرورت نہ ہو ۔
قیادت کا چناؤ مشاورت سے ہوگا ۔ اس حوالے سے باکردار اور علمی صلاحیت کے حامل لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔
تحریک میں شمولیت سےپہلے منشور کا مطالعہ کرنا ضروری قرار دیا جا ئے گا۔
درج بالا نکات کے حوالے سے آپ کی رائے ، رد عمل اور تجاویز درکارہیں۔