دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

سیما علی

لائبریرین
جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن
دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا

فغاں
لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور
مرزا غالب

دن
 

سیما علی

لائبریرین
چند ہیں اصلی عناصر بن گئے ملت پہ بار
اور ان کا سوچ کر ہی لعنتین ہیں بے شمار
کے کریں کس سے کہیں کہ بو ل دینا جرم ہے
اور ان کے سر پہ چڑھ ناچے ہے طاقت کاخمار

خمار
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
چند ہیں ایسے عناصر جو کہ ہیں ملت پہ بار
اور ان کا سوچ کر ہی لعنتین ہیں بے شمار
کے کریں کس سے کہیں کہ بو ل دینا جرم ہے
اور ان کے سر پہ چڑھ ناچے ہے طاقت کاخمار

خمار
درد، غم اور کُلفتیں توبہ
تلخیِ صد خمار ہے انساں

صرف آدم کی ایک لغزش پر
آج تک اشک بار ہے انساں

غم کے ماروں سے پوچھیے تو شکیبؔ
صاحبِ اختیار ہے انساں ؟

شکیب جلالی

صاحبِ اختیار
 
جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن
دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں
جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن
دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا

فغاں
رنج مت کر ، کہ تجھے ضبط کا یارا نہ رہا
کس قدر واقف آداب فغاں تھے ہم بھی
فاروق ستار
آداب
 
رنج مت کر ، کہ تجھے ضبط کا یارا نہ رہا
کس قدر واقف آداب فغاں تھے ہم بھی
فاروق ستار
آداب

یہ باتوں میں نرمی یہ تہذیب و آداب
سبھی کچھ ملا ہم کو اردو زباں سے


تہذیب
 

سیما علی

لائبریرین
رنج مت کر ، کہ تجھے ضبط کا یارا نہ رہا
کس قدر واقف آداب فغاں تھے ہم بھی
فاروق ستار
آداب

یہ باتوں میں نرمی یہ تہذیب و آداب
سبھی کچھ ملا ہم کو اردو زباں سے


تہذیب
ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا
دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں
فراغ روہوی

وحشت
 

سیما علی

لائبریرین
دیوانوں کو اب وسعتِ صحرا نہیں درکار
وحشت کے لئے سایۂ دیوار بہت ہے
زہرا نگار

وسعت
عجب کیا گر مجھے عالم بایں وسعت بھی زنداں تھا
میں وحشی بھی تو وہ ہوں لا مکاں جس کا بیاباں تھا

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

لا مکاں
 

سیما علی

لائبریرین
عجب کیا گر مجھے عالم بایں وسعت بھی زنداں تھا
میں وحشی بھی تو وہ ہوں لا مکاں جس کا بیاباں تھا

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

لا مکاں
سر لا مکاں سے طلب ہوئی
سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی

کوئی حد ہے ان کے عروج کی
بلغ العلیٰ بکمالہ

یہی ابتدا یہی انتہا
یہ فروغ جلوۂ حق نما

کہ جہان سارا چمک اٹھا
کشف الدجیٰ بجمالہ

رخ مصطفیٰ کی یہ روشنی
یہ تجلیوں کی ہماہمی

کہ ہر ایک چیز چمک اٹھی
کشف الدجیٰ بجمالہ

وہ سراپا رحمت کبریا
کہ ہر اک پہ جن کا کرم ہوا

یہ کلام پاک ہے برملا
حسنت جمیع خصالہ
عنبر وارثی

کلام پاک
 

سیما علی

لائبریرین
یہ کلام پاک ہے برملا
حسنت جمیع خصالہ
عنبر وارثی

کلام پاک
جمالِ حسنِ قرآں نور جاں ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے

نظیر اس کی نہیں ملتی جہاں میں ڈھونڈ کر دیکھا
بھلا کیوں کر نہ ہو یکتا، کلام پاک رحماں ہے

یکتا
 
Top