جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ راجو اور انار کلی کو ہم نے کتنی محبت سے پالا ہے۔ ان کے ناز نخرے اٹھائے ہیں۔ ان کے رہنے کے لئے اگل کمرہ بنوایا۔ ان کا بڑا سا پنجرہ اپنے ہاتھون سے بنایا۔ کبھی ان کو بادام کھلا رہے ہیں اور کبھی انڈے ابال کر۔ کبھی شاہی ٹکڑے اور کبھی کیلا کاٹ کر کھلاتے تھے۔ ان کے لئے کمبل بنا کہ انھیں سردی نہ لگے۔ اور وہ بھی صبح ہمارا انتظار کیا کرتے تھے کہ کب دروازہ کھولیں اور انھیں ہماری صورت نظر آئے۔ تھوڑی دیر ہوتی تو راجہ آوازیں لگانے لگتا۔ جیسے ہی گلاس ڈور کھول کر ان کے روم میں جاتے تو رانی اپنی طرف سے لاڈیاں دکھانے کی کوشش کرتی۔ غرضیکہ ہماری توجہ انھوں نے کافی حد تک اپنی طرف کر رکھی تھی ۔۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے گھر کے فرد ہی ہیں۔
اس سے پہلے کوئی پوچھا کرتا کہ کون ہے اور گھر میں۔۔۔ تو ہمارا جواب ہوتا
گھر میں ہیں بس چھ ہی لوگ
چار دیواریں ، چھت اور میں
معلوم نہیں کیوں یہ فقرہ زبان پر چڑھ گیا تھا۔
لیکن پھر انار کلی اور راجو کے ساتھ ایسا دل لگا کہ محسوس ہوتا جیسے ایک دنیا ہے آس پاس۔
پھر یوں ہوا کہ ایک مراسلہ پڑھا
ہمیں ڈش میں پک کر پیش ہونے والے جانور کے علاوہ کسی جانور سے دلچسپی نہیں!!!
اس مراسلہ نے دل و دماغ میں ہلچل مچائی۔۔ اور ذہن کی سوئی اس بات پر اٹک گئی کہ اس بات کا فوری ردِ عمل ظاہر کریں یا پہلے اپنے ضبط و ظرف کو جانچ لیں۔ کیونکہ جس طرح سے راجو اور انار کلی ہماری زندگی کا حصہ بنے ہوئے تھے، ہمارا جوش میں آ کر کچھ کہہ دینا شاید قبل از وقت تھا۔ ہم نے اپنے اندر جھانکا۔ اپنے آپ سے سوال جواب کئے اور بالآخر وہ فیصلہ کر لیا جو ہمیں کرنا چاہئیے تھا۔ اللہ پاک کو کچھ اور منظور تھا کہ انھی دنوں ہمارے ساتھ پیش آنے والے حادثے نے ہماری توجہ اپنی تکلیف کی طرف کر دی اور باقی ہر کام اور بات کے لئے ہمت نہ رہی۔ لیکن اب جیسے ہی طبیعت کچھ سنبھلی ہے تو ہم نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنا دیا۔ 19 جون جدائی کا دن مقرر ہوا اور ہم نے اپنی انار کلی اور راجو کو ایک اور فیملی کے سپرد کر دیا ۔ امید ہے کہ وہ وہاں ایک اچھی زندگی گزاریں گے۔ وہاں ان جیسے دو اور بھی ہیں۔
عنوان کافی گمراہ کُن ہے۔
ہم نے اس لڑی کو "کسی مہربان نے آ کے میری زندگی سجا دی" کا عنوان دیا ہوا تھا۔ احمد بھائی نے اس طرف توجہ دلائی۔ ہم نے فوری تدوین کروا دی۔
انسان جذبات میں بلکہ نادانی میں خطائیں کرتا رہتا ہے لیکن ان خطاؤں کو عادت بنا لینا اچھا نہیں۔ سو ہم نے بھی اپنی خطا کو درست کر لیا ۔
احمد بھائی اور سید عمران محترم آپ کا بہت شکریہ ۔ آپ کے ان دو جملوں سے ہمیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوئی۔