اور ڈرگ روڈ کا فلائی اوور تو ان کے شان دار پلاننگ کا ثبوت ہے۔ کراچی والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا خوف ناک پل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناظم کراچی کی مثال تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک بوڑھا کسان کھیت میں فصل کاشت کرے اور جب فصل تیار ہو جائے تو اس کا بیٹا آ کر فصل کی کٹائی کر دے ۔
دعائیں دو سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان کو کہ جنہوں نے دن رات ایک کر کے کراچی میں سیکڑوں ترقیاتی منصوبے شروع کیے کچھ تو ان کی نظامت میں مکمل ہوئے اور باقی رہ جانے والے مصطفٰی کمال کے حصے میں آ گئے جو بڑے فخر سے اپنے نام کی تختی کے ساتھ نعمت اللہ خان کے منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے پھولے نہیں سما رہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہایت ہی افسوس ناک اور جانب داری سے بھرپور سطریں ہیں۔ نعمت بھائی نے جن علاقوںمیں جماعتی پائے جاتے ہیں وہاں ضرور کام کروائے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ اور انھوں نے ایسے کاموں کی کوشش کی جو دور ہی سے دکھائی دے جائیں ۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ جب کہ مصطفے کمال نے کوئی تفریق نہیں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں نعمت اللہ صاحب نے صرف پارک وغیرہ اور اسطرح کے دوسرے کاموں پر توجہ دی تھی جو عام انسان کو فوراََِِِِ نظر آئیں پر انکی باقی کارکردگی صفر تھی جب کہ مصطفٰے بھائی نے تو پورے کراچی کا نقشہ ہی تبدیل کردیا ہے آپ اورنگی اور بلدیہ ٹائون وغیرہ جیسے ایسے علاقوں میں جاکر دیکھیں جہان کوئی پھٹکتا تک نہیں تھا آج وہاں کا نقشہ ہی چینج ہے میں کافی عرصہ بعد جب وہاں گیا تو حیران رہ گیا۔نعمت اللہ صاحب تو اپنے ذرا سے کام پر بھی شاباش نعمت اللہ کے بینر لگوادیتے تھے تاکہ اگر کسی کو انکا کام نظر نہ آئے تو وہ کم از کم بینر پڑھ کر سمجھ جائیں کہ ہاں کوئی کام ہوا ہے جب کہ مصطفٰے بھائی کو کسی بینر کی ضرورت نہیں ہے ہر شہری کہ خود منہ سے نکلتا ہے۔۔۔شاباش مصطفٰے کمال شاباش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالکل ۔ نعمت صاحب نے پارکس دھڑا دھڑ بنوائے ۔ حتی کہ جناح ایر پورٹ پر ماڈل کالونی کے موڑپر انھوں نے محض دو روز میں چھوٹا سا پارک بنوایا اور دن رات اس پر کام ہوتے دیکھا گیا اور اس کا سبب یہ تھا کہ نعمت بھائی کینٹ تشریف لا رہے تھے اور اسی راستے سے ہو کر جانا تھا۔۔۔۔۔ وہاں رک کر انھوں نے اس کا بھی افتتاحکیا اور پھر وہاں ویرانی کا راج دیکھا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پیسہ ضایع گیا ۔
شیر شاہ نادرن بائی پاس کا پل مصطفٰی کمال کا شاندار کارنامہ بھول گئے جو افتتاح کے چند دنوں بعد گر گیا ۔ ڈرگ روڈ کا پل تو چھ سال سے قائم و دائم ہے ۔
نعمت اللہ ہوں یا مصطفٰے کمال دونوں کراچی کے ہونہار سپوت ہیں اور نعمت اللہ صاحب نے بھی کافی کام کیا پر مصطفٰے کمال ایک ایسے محنتی اور پر عزم شخصیت کا نام ہے جسکی تعریف نہ صرف کراچی بلکہ باہر بھی کی گئ اور ایم کیو ایم کے مخالفوں کے بھی منہ سے میں نے خود سنا کہ ایم کیو ایم چاہے کیسی بھی ہو مصطفٰے کمال بہت ایماندار اور با صلاحیت ناظم ہے۔ اور اگر کوئی محنت کرے تو اسکی محنت کو ضایع نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہر بات کو تعصب کی نظر سے دیکھ کر بے جا تنقید کا نشانہ بنانا چاہیئے ۔
آپ کو میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اپنی معلومات صحیح کرلیں ناردن بائی پاس پر شیر شاہ کے اوپر جو پل بنا تھا یا اس پر جو بھی تعمیرات ہوئی ہیں وہ سٹی گورنمنٹ کی زیرِ نگرانی نہیں ہوئیں بلکہ اس سارے کام کا ٹھیکہ nlcکے پاس تھا اور جب یہ پل گرا تھا تو مختلف ٹی وی چیلنلز پر جب جماعتِ اسلامی کے لوگ پرو پیگنڈہ کر رہے تھے تو ہر جگہ مصطفٰے کمال بھائی نے آکر یہ واضع کیا تھا اور بہت سختی سے اسکی تردید کی تھی ۔ اگر یقین نہ آئے تو آپ خود معلومات کر کے دیکھ لیں کہ اس سارے کام کی ذمہ داری سٹی گورنمنٹ کے پاس تھی یا nlcکے پاس
چلو شکر کہ آپ نے نعمت اللہ خان کے کام کو تسلیم تو کیا ۔ حالانکہ تعصب کا مظاہرہ کرنے میں پھر بھی پیچھے نہیں رہے ۔ نادرن بائی پاس بے شک این ایل سی نے بنوائی تو کیا اس وقت کے وزیر مواصلات ایم کیو ایم کے نہیں تھے جن پر اس سارے معاملے کی زمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اور پھر افتتاح کرتے ہوئے مصطفٰی کمال کا نام وہاں بینرز میں بہت واضع لکھا گیا جب کہ افتتاح مشرف نے کیا تھا ۔ اس کے علاوہ ابھی بھی کئی کام وفاقی حکومت کروا رہی ہے تو پھر اس کا کریڈٹ مصطفٰی کمال کے کھاتے میں کیوں ڈالا جا رہا ہے ۔ ابھی حال ہی میں ائرپورٹ سے ٹول پلازہ تک بننے والی سڑک بھی وفاقی حکومت نے بنوائی لیکن کریڈٹ ناظم کو دیا جائے رہا ہے ۔ کیا جواب دیں گے اس کا ۔
کھسیانی بلی اب پتہ نہیں کھمبا کیوں نوچ رہی ہے۔۔۔ اگر نعمت نے اتنے اچھے کام کرواے تھے تو کیوں کراچی والوں نے ان کو ووٹ کی مار سے گھر کی واپسی کا ٹکٹ کٹا کر اس عظیم 'نعمت' سے محروم ہونے کا ثواب حاصل کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کر کہ کراچی والوں نے آفت کو آواز دی ہے۔۔۔۔۔ اس دھاگے سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے۔۔۔۔
کرچی میں رہنے کے 'دعویدار' لوگوں نے شاید کافی بار مصطفی کمال کو رات کے چار بجے تک پروجکٹ سایٹس ہر دیکھا ھوگا۔۔۔۔۔۔۔ دو مواقع کا عینی گواہ تو میں خود ہوں۔۔۔۔
نعمت کا اور کمال کا مقابلہ، گدھے اور گھوڑے کا مقابلہ ہے۔۔۔۔ اور ہاں، یہاں گدھا (محاورتاً نعمت کو کہا جا رہا ہے۔۔۔۔
اور ڈرگ روڈ کا فلائی اوور تو ان کے شان دار پلاننگ کا ثبوت ہے۔ کراچی والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا خوف ناک پل ہے۔
کراچی اور پاکستان کا سب سے بڑا فلائی اور کے پی ٹی فلائی آور کیا نعمت اللہ نے نہیں بنایا ۔
بولنے سے پہلے تول لیا کرو
شیر شاہ بائی پاس بنا تھا یا اس پر جو بھی تعمیرات ہوئی ہیں وہ مصطفٰے کمال بھائی کی زیرِ نگرانی نہیں ہوئیں بلکہ یہ فیڈرل گورنمنٹ کا منصوبہ تھا
نعمت کا اور کمال کا مقابلہ، گدھے اور گھوڑے کا مقابلہ ہے۔۔۔۔ اور ہاں، یہاں گدھا (محاورتاً نعمت کو کہا جا رہا ہے۔۔۔۔
محترمہ کراچی کا سب سے بڑا برج علامہ اقبال برج ہے جو ملیر ندی پر بنا ہوا ہے
نعمت بھائی۔۔۔۔ ان کی پوری ٹیم۔۔ جماعت اسلامی اور اس کی بغل بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انتہائی نیک دین دار ۔۔۔۔ باشعور جدید ذہن رکھنے والے افراد اور پلیٹ فارم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات جیسے کراچی کے عوام خوب جانتے ہین ہر بات اسی طرحیہ بھی جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ انھیں ووٹنہن ملنے اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ بھی کراچی کے عوام خوب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب سب کچھ کراچی کے عوام جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ مصطفا غلط ہے یا نعمت بھلا ہے تو پھر ہم کاہے کو بحث کرت ہیںرے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
نعمت بھائی۔۔۔۔ ان کی پوری ٹیم۔۔ جماعت اسلامی اور اس کی بغل بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔ انتہائی نیک دین دار۔۔۔۔ باشعور جدید ذہن رکھنے والے افراد اور پلیٹ فارم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے باوجود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات جیسے کراچی کے عوام خوب جانتے ہین ہر بات اسی طرحیہ بھی جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ انھیں ووٹنہن ملنے اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ بھی کراچی کے عوام خوب جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب سب کچھ کراچی کے عوام جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ مصطفا غلط ہے یا نعمت بھلا ہے تو پھر ہم کاہے کو بحث کرت ہیںرے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ہکراچی کی باشعور عوام حقیقت جانتی ہے یہاں تک کہ نعمت اللہ خان کے کاموں کی وجہ سے ایم کیو ایم اتنا بوکھلا گئی کہ صوبائی حکومت میں شامل ایم کیو ایم کے وزراء نعمت اللہ کے کاموں میں بے جا مداخلت کرنے لگی ۔ رہی بات منتخب ہونے کی تو وہ کراچی کی عوام جانتی ہے کہ ایم کیو ایم نے کس قدر دھاندلی کی َ مخالفین کو پولنگ اسٹیشن تک نہیں آنے دیا گیا اور خود اپنے ورکروں سے پولنگ باکس جعلی ووٹوں سے بھرتے رہے ۔ کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے ۔ اب آپ کھمبا نوچیں گے یا سر کے بال ۔
ہاں یقیناً آپ اپنے بزرگوں کو بھی محاورتاً گدھا ہی کہتے ہوں گے