اس شعر کی جگہ کوئی دوسرا شعر کہہ لیجیے۔ پہلے مصرع میں الفاظ کی ترتیب درست نہیں دوسرے مصرع میں شناس بمعنی پہچان درست نہیں۔
پہلے مصرع کو یوں کر سکتے ہیں
سال بیتے کئی جدائی میں
تلاش درست قافیہ نہیں۔
سر جی! کانفلکٹ آف انٹریسٹ اُن دنوں بھی اتنی ہی اصلیت رکھتا تھا جتنی آج ریاستِ مدینہ قسم دوم میں ہے۔ نواز شریف نے اسٹیل ملز کو کیوں نہ بحال کیا یا کراچی کے قریب گڈانی کی شپ بریکنگ کو کیوں برباد کیا یا شاہد خاقان عباسی پی آئی اے کو کیوں نہ چلا سکے اور کیوں ہم نیازی صاحب کے گھر کے اخراجات اور غیر...
جزاک اللہ ظہیر بھائی! آپ اور دیگر محفلین خاص طور پر سید عاطف علی بھائی اور استادِ محترم الف عین صاحب کی تعریف و تنقید ساتھ نہ ہو تو ہم جیسے متشاعروں کی اصلاح ناممکن ہے۔ خوش رہیے اور اپنی تعریف کے ڈونگرے اور بے لاگ تنقید جاری رکھیے تاکہ ہمارا سیکھنے کا عمل جاری رہے۔
ادھر اپنا تو لاک ڈاؤن میں یہ حال ہے کہ
رو میں ہے رخش "خیال" کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
رات کوئی ایک بجے ظہیر بھائی کا پیغام دیکھا۔ تڑپ اٹھے اور ان کی تجویز کو ذہن میں لاتے ہی موبائل پر ہی شروع ہوگئے ۔ اچھی تو نہیں کہہ سکتے، ہاں پہلے سے بہتر ہوگئی۔
جزاک اللہ ظہیر بھائی۔ آپ کامشورہ پڑھتے ہی چھوٹی بحر میں لکھنے کی کوشش کرڈالی ہے۔ پڑھ کر اپنی را ئے سے ضرور نوازئیے۔
سردی میں کھیتوں پر کہرا چھائے گا
گیت لکھے گا شاعر اور یوں گائے گا
گلشن میں جب سبزہ شان دکھائے گا
تب شاعر مطلب اس کا سمجھائے گا
گرمی کے دن لمبے اور راتیں چھوٹی
تب اس کا تم مطلب...
آپ ابھی مبتدی ہیں مانوس بحروں ہی کو استعمال کیجیے۔ جب بہترین شاعری کرنے لگیں گے تو تجربے بھی کرسکتے ہیں۔ نامانوس بحروں کو استعمال کرنے کے یا بغیر بحر کے لکھ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں نثری شاعری کہلائے گی۔
گلفام بھائی جو بحر آپ نے استعمال کی ہے ، کسی اور شاعر نے استعمال نہیں کی ہے۔ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ مندرجہ ذیل لنک میں دی گئی بحروں میں سے استعمال کیجیے۔
گویا آج اسٹیبلشمنٹ کے لفافی وزیر کی بہترین کلاس لی گئی۔
یہ موصوف ایم کیو ایم پاکستان کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے لیکن ان کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں۔ جب ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ ہوئی تو صرف خالد مقبول صدیقی علیحدہ ہوئے۔ یہ صاحب حکومت میں بیٹھے رہے۔ اب باربار اسٹیبلشمنٹ کے کام سے علیحدہ ہوتے...
سر اسی تبصرے کے طفیل آپ سے اپنے قطعے کی اصلاح چاہتے ہیں
بارے آرام سے لندن میں براجے ہیں میاں
رائے ونڈ اور کسی گھر میں یه آرام کہاں
اس میں عمران نیازی کی تھی مرضی شامل
اب چنی کرتے بنے اُن کو، نہ اب اُن کو چناں