غزل

  1. محمد تابش صدیقی

    غزل: زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے ٭ تابش

    زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے ہوس اور مطلب میں ایثار گم ہے شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے ہر آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے میں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوں کہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہے ہوا بے وفائی کی ایسی چلی ہے وفا کی طلب ہے، وفادار گم ہے بچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسے کہ امت کی نیّا کی پتوار...
  2. عاطف ملک

    عشق جس دن سے بے اصول ہوا

    عشق جس دن سے بے اصول ہوا جور و عصیاں بنا، فضول ہوا چھا گئی دل پہ ایسی بوالہوسی پھول ہوتا تھا جو، ببول ہوا وہ کہ ٹھہرے متاعِ جاں میری میں کہ ان کی ذرا سی بھول ہوا خار کیا شے ہے، سنگ ہے کیا چیز ان کے در کا ہوا تو پھول ہوا تہمتیں، طنز و طعنہ، رسوائی بسر و چشم سب قبول ہوا دکھ نہیں تیری بے رخی...
  3. محمد تابش صدیقی

    غزل: نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے ٭ تابش

    نشانِ منزلِ الفت سراب جیسا ہے نہیں ہے کوئی حقیقت، یہ خواب جیسا ہے طویل ہوتی چلی جائے ہے شبِ فرقت یہ انتظارِ سحر تو عذاب جیسا ہے ستم شعار سہی، غیر پر نثار سہی وہ ہے تو اپنا ہی، خانہ خراب، جیسا ہے سنے ہیں راہِ محبت کے سینکڑوں قصے یہ راستہ ہی دکھوں کی کتاب جیسا ہے وہ ہم سے مل کے بھی پوچھے رقیب...
  4. محمداحمد

    غزل ۔۔۔ نظر سے گزری ہیں دسیوں ہزار تصویریں ۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل نظر سے گُزری ہیں دسیوں ہزار تصویریں سجی ہیں دل میں فقط یادگار تصویریں مری کتاب اٹھا لی جو دفعتاًاُس نے گِریں کتاب سے کچھ بے قرار تصویریں میں نقش گر ہوں، تبسّم لبوں پہ رکھتا ہوں مجھے پسند نہیں سوگوار تصویریں بس اک لفافہ! اثاثہ حیات کا؟ کیسے؟ بس اک کتاب، گلِ خشک، چار تصویریں! مجھے ہے خوف...
  5. منہاج علی

    مٹ چکا ہے سب یہاں اور سب یہاں مٹ جائے گا:: میر احمد نوید

    مٹ چکا ہے سب یہاں اور سب یہاں مٹ جائے گا مٹ رہا ہے سب یہاں ہائے یہاں میں بھی تو ہُوں سب کی بے سمتی ہے میرا قہقہہ ہے اور سفر بھول بیٹھا ہوں مَیں یہ شاید رواں میں بھی تو ہوں بنتے مٹتے رکتے چلتے دیکھتا تھا میں حباب یک بہ یک مجھ کو خیال آیا کہ ہاں میں بھی تو ہوں لگ گئی ہے چُپ مجھے بھی رازداں کے...
  6. ی

    تبسم جب اشک تری یاد میں آنکھوں سے ڈھلے ہیں ۔ صوفی تبسّم

    جب اشک تری یاد میں آنکھوں سے ڈھلے ہیں تاروں کے دیے صورتِ پروانہ جلے ہیں سو بار بسائی ہے شبِ وصل کی جنت سو بار غمِ ہجر کے شعلوں میں جلے ہیں ہر آن امنگوں کے بدلتے رہے تیور ہر آن محبت میں نئی راہ چلے ہیں مہتاب سے چہرے تھے ستاروں سی نگاہیں ہم لوگ انہی چاند ستاروں میں پلے ہیں نوچے ہیں کبھی ہم نے...
  7. ی

    بُجھ گئی دل کی روشنی، راہ دھواں دھواں ہوئی۔ مخمور سعیدی

    بُجھ گئی دل کی روشنی، راہ دھواں دھواں ہوئی صبح چلے کہاں سے تھے، شام ہمیں کہاں ہوئی شوق کی راہِ پُر خطر، طے تو کر آئے ہم مگر نذرِ حوادثِ سفر، دولتِ جسم و جاں ہوئی عشق و جنوں کی واردات، دیدہ و دل کے سانحات بیتی ہوئی ہر ایک بات، دُور کی داستاں ہوئی کوئی بھی اب نہیں رہا جس کو شریکِ غم کہیں دورِ...
  8. محمد تابش صدیقی

    غزل: جو بچھڑ کے جینا روا ہوا، یہ برا ہوا ٭ آصف اکبر

    جو بچھڑ کے جینا روا ہوا، یہ برا ہوا نہ جنوں کا قرض ادا ہوا، یہ برا ہوا شبِ ہجر کھا گئی زیست کو چلو ٹھیک ہے جو شکستِ عہدِ وفا ہوا، یہ برا ہوا مجھے ہمسفر کی شقاوتوں کا گلہ نہیں مرا خون میرا خدا ہوا، یہ برا ہوا ترا حق تھا راہ بدلنا، تو نے بجا کیا مرا اعتبار فنا ہوا، یہ برا ہوا مرا ایک عمر کا...
  9. محمد تابش صدیقی

    حفیظ جالندھری غزل: زندگی سے نباہ مشکل ہے

    زندگی سے نباہ مشکل ہے یہ مسلسل گناہ مشکل ہے ہاں مرے خیر خواہ مشکل ہے تیرے ہاتھوں پناہ مشکل ہے دوستی ہی میں دشمنی بھی ہو یہ نئی رسم و راہ مشکل ہے ارتکابِ گناہ سہل نہیں انتخابِ گناہ مشکل ہے اے مری جان! اے مرے ایمان! اب ہمارا نباہ مشکل ہے ہم سے اس مسئلے پہ بات نہ کر فقر اے بادشاہ مشکل ہے...
  10. عاطف ملک

    دو غزلہ: ستائش سن کے اِترانے سے پہلے

    ایک کاوش احباب کے ذوق کی نذر ستائش سن کے اِترانے سے پہلے وہ شرمائے بھی، مسکانے سے پہلے خرد کو تھی تعقل سے ہی نسبت خمارِ عشق چھا جانے سے پہلے خیالوں میں بنائی ایک جنت تصور میں تمہیں لانے سے پہلے ہزاروں استعارے ہم نے سوچے تمہارا ذکر کر جانے سے پہلے عدو کے مورچوں کی بھی خبر لو ہمارے زخم سہلانے...
  11. محمداحمد

    غزل ۔۔۔ اُٹھا رکھوں سبھی کارِ جہاں، کتاب پڑھوں ۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل اُٹھا رکھوں سبھی کارِ جہاں، کتاب پڑھوں تیاگ دوں یہ جہاں، ناگہاں! کتاب پڑھوں وہاں پہنچ کے نہ جانے کہاں ٹھہرنا ہو سفر میں ہُوں تو یہاں تا وہاں، کتاب پڑھوں ابھی تو کیف سے پُر ہے حکایتِ ہستی نئی نئی ہے ابھی داستاں، کتاب پڑھوں رواں سفینہ ٴ ہستی ہے، رکھ نہ دوں پتوار؟ ہوا کی اور رکھوں بادباں،...
  12. محمد تابش صدیقی

    غزل: بہہ گئے خواہشوں کے ریلے میں ٭ تابش

    بہہ گئے خواہشوں کے ریلے میں ہم ہیں گم زندگی کے میلے میں اپنا پندار ٹوٹ جائے گا خود سے ملیے کبھی اکیلے میں حسنِ کردار جیسی میٹھی مہک نہ تو گیندے میں ہے نہ بیلے میں بات کرنے سے پہلے سوچے بھی؟ کون پڑتا ہے اس جھمیلے میں اب تماشا ہے جا بجا تابشؔ پہلے ہوتا تھا میلے ٹھیلے میں ٭٭٭ محمد تابش صدیقی
  13. محمداحمد

    غزل ۔۔۔خفا ہیں؟مگر! بات تو کیجیے۔۔۔ محمد احمد

    غزل خفا ہیں؟مگر! بات تو کیجیے ملیں مت، ملاقات تو کیجیے ملیں گے اگر تو ملیں گے کہاں بیاں کچھ مقامات تو کیجیے پلائیں نہ پانی ،بٹھائیں بھی مت مُسافر سے کچھ بات تو کیجیے نہیں اِتنے سادہ و معصوم وہ کبھی کچھ غلط بات تو کیجیے سنی وعظ و تقریر، اچھی لگی چلیں ،کچھ مناجات تو کیجیے نہیں دوستی کی فضا...
  14. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::چلے بھی آؤ کہ فُرقت سے دِل دُہائی دے::::shafiq khalish

    غزل چلے بھی آؤ کہ فُرقت سے دِل دُہائی دے غمِ جہاں بھی، نہ اِس غم سے کُچھ رہائی دے کبھی خیال، یُوں لائے مِرے قریب تُجھے ! ہرایک لحظہ، ہراِک لب سے تُو سُنائی دے کبھی گُماں سے ہو قالب میں ڈھل کے اِتنے قریب تمھارے ہونٹوں کی لرزِش مجھے دِکھائی دے ہے خوش خیالیِ دل سے کبھی تُو پہلُو میں کُچھ اِس طرح...
  15. طارق شاہ

    شفیق خلش :::: دیدہ دلیری سب سے، کہ اُس کو بُھلا دِیا::: Shafiq Khalis

    غزل دِیدہ دلیری سب سے، کہ اُس کو بُھلادِیا اَوروں نے جب کہا کبھی، مجھ کو رُلا دِیا جو روز بڑھ رہا تھا بہر طَور پانے کا! جذبہ وہ دِل کا ہم نے بالآخر سُلادیا تردِید و خوش گمانی کو باقی رہا نہ کُچھ ہر بات کا جواب کُچھ ایسا تُلا دِیا تشہیر میں کسر کوئی قاصِد نے چھوڑی کب! خط میرے نام لکھ کے جب...
  16. محمد تابش صدیقی

    امجد اسلام امجد غزل: وہ دَمکتی ہوئی لَو ،کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُوا

    وہ دَمکتی ہوئی لَو ،کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُوا وہ جو اُلجھا تھا وحشی ہَوا سے کبھی، اُس دِیے کو بُجھے تو زمانہ ہُوا باغ میں پُھول اُس روز جو بھی کِھلا، اُسکی زلفوں میں سجنے کو بے چین تھا جو ستارہ بھی اُس رات روشن ہُوا، اُسکی آنکھوں کی جانب روانہ ہُوا کہکشاں سے پَرے، آسماں سے پَرے،...
  17. محمد تابش صدیقی

    غزل: اسے تو پاسِ خلوصِ وفا ذرا بھی نہیں ٭ انور مسعود

    اسے تو پاسِ خلوصِ وفا ذرا بھی نہیں مگر یہ آس کا رشتہ کہ ٹوٹتا بھی نہیں گھرے ہوئے ہیں خموشی کی برف میں کب سے کسی کے پاس کوئی تیشۂ صدا بھی نہیں مآلِ غنچہ و گل ہے مری نگاہوں میں مجھے تبسم‌ِ کاذب کا حوصلہ بھی نہیں طلوعِ صبحِ ازل سے میں ڈھونڈتا تھا جسے ملا تو ہے پہ مری سمت دیکھتا بھی نہیں مری...
  18. محمد تابش صدیقی

    غزل: کب تلک یوں دھوپ چھاؤں کا تماشا دیکھنا ٭ انور مسعود

    کب تلک یوں دھوپ چھاؤں کا تماشا دیکھنا دھوپ میں پھرنا، گھنے پیڑوں کا سایا دیکھنا ساتھ اس کے کوئی منظر، کوئی پس منظر نہ ہو اِس طرح میں چاہتا ہوں اُس کو تنہا دیکھنا رات اپنے دیدۂ گریاں کا نظارہ کیا کس سے پوچھیں، خواب میں کیسا ہے دریا دیکھنا اس گھڑی کچھ سوجھنے دے گی نہ یہ پاگل ہوا اک ذرا آندھی...
  19. محمد تابش صدیقی

    غزل: سوچنا، روح میں کانٹے سے بچھائے رکھنا ٭ انور مسعود

    سوچنا، روح میں کانٹے سے بچھائے رکھنا یہ بھی کیا سانس کو تلوار بنائے رکھنا راہ میں بھیڑ بھی پڑتی ہے، ابھی سے سن لو ہاتھ سے ہاتھ ملا ہے تو ملائے رکھنا کتنا آسان ہے تائید کی خو کر لینا کتنا دشوار ہے اپنی کوئی رائے رکھنا کوئی تخلیق بھی تکمیل نہ پائے میری نظم لکھ لوں تو مجھے نام نہ آئے رکھنا اپنی...
  20. محمد تابش صدیقی

    غزل: میں جرمِ خموشی کی صفائی نہیں دیتا ٭ انور مسعود

    میں جرمِ خموشی کی صفائی نہیں دیتا ظالم اسے کہیے جو دہائی نہیں دیتا کہتا ہے کہ آواز یہیں چھوڑ کے جاؤ میں ورنہ تمہیں اذنِ رہائی نہیں دیتا چرکے بھی لگے جاتے ہیں دیوارِ بدن پر اور دستِ ستمگر بھی دکھائی نہیں دیا آنکھیں بھی ہیں، رستا بھی، چراغوں کی ضیا بھی سب کچھ ہے مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا اب...
Top