عشق جس دن سے بے اصول ہوا
جور و عصیاں بنا، فضول ہوا
چھا گئی دل پہ ایسی بوالہوسی
پھول ہوتا تھا جو، ببول ہوا
وہ کہ ٹھہرے متاعِ جاں میری
میں کہ ان کی ذرا سی بھول ہوا
خار کیا شے ہے، سنگ ہے کیا چیز
ان کے در کا ہوا تو پھول ہوا
تہمتیں، طنز و طعنہ، رسوائی
بسر و چشم سب قبول ہوا
دکھ نہیں تیری بے رخی...